اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اقوامِ متحدہ (یو این) اور اس کے ذیلی ادارے دنیا بھر کے باصلاحیت افراد کو مختلف شعبوں میں روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں، جہاں ہر سال ہزاروں اسامیاں مشتہر کی جاتی ہیں۔
پاکستان سمیت مختلف ممالک کے امیدوار بھی ان مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اپنے کیریئر کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے مختلف ادارے انجینئرنگ، صحت، تعلیم، مالیات، آئی ٹی، ماحولیات، قانون، سماجی علوم، انسانی حقوق، انتظامی امور، منصوبہ بندی، مواصلات، ترقیاتی منصوبوں اور انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں سمیت متعدد شعبوں میں ملازمتوں کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ میں ملازمت کیوں اہم ہے؟
اقوامِ متحدہ میں ملازمت صرف ایک اچھی تنخواہ کا ذریعہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر پیشہ ورانہ ترقی، مختلف ممالک میں کام کرنے کے مواقع اور بین الاقوامی تجربہ حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ بھی سمجھی جاتی ہے۔
یو این کے مختلف اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو مسابقتی تنخواہوں کے علاوہ صحت کی انشورنس، پنشن، سالانہ تعطیلات، پیشہ ورانہ تربیت، عالمی سطح پر تبادلوں اور کیریئر میں ترقی کے متعدد مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملازمین کو مختلف ممالک میں کام کرنے کا تجربہ حاصل ہوتا ہے جس سے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
کن اداروں میں ملازمتیں دستیاب ہوتی ہیں؟
اقوامِ متحدہ کے مرکزی سیکریٹریٹ کے علاوہ کئی ذیلی ادارے بھی مستقل بنیادوں پر نئی آسامیوں کا اعلان کرتے ہیں جن میں عالمی ادارۂ صحت، اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی پروگرام، بچوں کا ادارہ، مہاجرین سے متعلق ادارہ، خوراک و زراعت کا ادارہ، خواتین کے حقوق کا ادارہ، عالمی خوراک پروگرام اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں۔
ان اداروں میں تجربہ کار پیشہ ور افراد کے ساتھ ساتھ نئے گریجویٹس، انٹرنز اور نوجوان ماہرین کے لیے بھی مختلف پروگرام موجود ہوتے ہیں۔
پاکستانی امیدوار کیسے درخواست دے سکتے ہیں؟
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق پاکستانی امیدواروں کو چاہیے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے سرکاری کیریئر پورٹل پر باقاعدگی سے نئی آسامیوں کا جائزہ لیتے رہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سرکاری کیریئر پورٹل پر ملازمتوں کی معلومات اور آن لائن درخواست کے لیے ملاحظہ کریں:
https://careers.un.org
درخواست دینے کے لیے امیدوار پہلے آن لائن اکاؤنٹ بناتے ہیں، اپنی تعلیمی اسناد، پیشہ ورانہ تجربہ، زبانوں کی مہارت اور دیگر ضروری معلومات درج کرتے ہیں۔ اس کے بعد مطلوبہ آسامی کا انتخاب کرکے آن لائن درخواست جمع کرائی جاتی ہے۔
ہر آسامی کے لیے اہلیت، تجربہ، تعلیمی قابلیت اور زبان سے متعلق الگ شرائط درج ہوتی ہیں، اس لیے امیدواروں کو درخواست جمع کرانے سے پہلے تمام ہدایات کو احتیاط سے پڑھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
کامیابی کے امکانات کیسے بڑھائے جائیں؟
ماہرین کے مطابق امیدواروں کو چاہیے کہ وہ اپنا نصابی کوائف (سی وی) بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کریں، انگریزی زبان پر مضبوط عبور حاصل کریں، متعلقہ شعبے میں عملی تجربہ بڑھائیں اور درخواست جمع کراتے وقت تمام دستاویزات درست انداز میں فراہم کریں۔
اس کے علاوہ کمپیوٹر مہارت، تحقیق، منصوبہ بندی، ابلاغ اور ٹیم ورک جیسی صلاحیتیں بھی اقوامِ متحدہ میں ملازمت حاصل کرنے کے امکانات میں اضافہ کرتی ہیں۔
پاکستانی ماہرین کے لیے سنہری موقع
بین الاقوامی اداروں میں کام کرنے والے پاکستانی ماہرین نہ صرف عالمی سطح پر اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ قیمتی تجربہ، جدید مہارتیں اور بین الاقوامی روابط بھی حاصل کرتے ہیں، جو بعد ازاں پاکستان میں مختلف شعبوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اقوامِ متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کی ویب سائٹس پر باقاعدگی سے نظر رکھیں تاکہ نئی آسامیوں سے بروقت آگاہ ہو سکیں اور مقررہ مدت کے اندر اپنی درخواست جمع کرا سکیں۔