اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)یمن کی حوثی تحریک انصاراللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ تنظیم کی جانب سے اعلان کردہ بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے تھے۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بحیرہ احمر پہلے ہی شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے اور عالمی طاقتیں اس اہم بحری راستے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
حوثیوں کے مطابق دونوں ٹینکروں کو پہلے خبردار کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے ان کی تنبیہ کو نظر انداز کرتے ہوئے سفر جاری رکھا، جس کے بعد ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔
حوثیوں نے حملے کی وجہ کیا بتائی؟
انصاراللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی یمن پر عائد محاصرے، پابندیوں اور صنعا ایئرپورٹ کی مسلسل بندش کے ردعمل میں کی گئی۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے پہلے ہی اعلان کر رکھا تھا کہ اگر یمن پر عائد پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کی نقل و حرکت کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ حوثیوں کے مطابق بحری ناکہ بندی کا مقصد سعودی عرب پر دباؤ بڑھانا اور یمن کے خلاف جاری اقدامات کا جواب دینا ہے۔
سعودی حکام نے کیا تصدیق کی؟
دوسری جانب سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ بحیرہ احمر میں سفر کے دوران سعودی ملکیت کے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی۔
تاہم حکام کے مطابق جہاز پر موجود تمام عملہ محفوظ رہا اور واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا اور عملے کو بحفاظت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
میزائل حملے کی اطلاعات کہاں سے آئیں؟
اس واقعے سے قبل برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بھی اطلاع دی تھی کہ سعودی عرب کے ساحلی شہر الشقیق سے تقریباً 70 ناٹیکل میل دور ایک بحری جہاز میں آگ لگ گئی ہے۔
ٹینکر کے کپتان کے مطابق آگ اس وقت بھڑکی جب جہاز کو ایک میزائل نے نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں نہ صرف تمام عملہ محفوظ رہا بلکہ سمندری ماحول میں تیل کے اخراج یا کسی بڑے ماحولیاتی نقصان کی بھی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
بحری ناکہ بندی کیوں اہم ہے؟
چند روز قبل حوثی تنظیم نے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔ تنظیم کے ترجمان نے کہا تھا کہ جب تک یمن پر عائد محاصرہ ختم نہیں ہوتا اور صنعا ایئرپورٹ بحال نہیں کیا جاتا، سعودی بحری جہاز بھی ان کے ممکنہ اہداف میں شامل رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں :بحیرۂ عمان میں امریکی فضائی حملہ، بھارتی آئل ٹینکر نشانہ، 3 بھارتی ہلاک
یہ اعلان اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ بحیرہ احمر دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں سے روزانہ بڑی مقدار میں تیل، گیس اور دیگر تجارتی سامان مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا ہے۔
عالمی تجارت کیوں فکر مند ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرہ احمر میں کسی بھی قسم کی کشیدگی صرف خطے تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔
اگر تجارتی یا آئل ٹینکروں پر حملوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو شپنگ کمپنیاں اپنے راستے تبدیل کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ، ایندھن کے اخراجات اور انشورنس کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ اس کا براہ راست اثر عالمی منڈیوں میں تیل کی ترسیل اور قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
آگے کیا ہو سکتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحیرہ احمر میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ اگر حوثی اپنی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری رکھتے ہیں اور سعودی یا دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات بڑھتے ہیں تو خطے میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
فی الحال دونوں آئل ٹینکروں کے حوالے سے مختلف فریقوں کے بیانات سامنے آ چکے ہیں، تاہم یہ واضح ہے کہ بحیرہ احمر ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس تنازع کو سفارتی سطح پر کم نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف یمن اور سعودی عرب تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔