پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر حملہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہوگا،پاکستان کا دوٹوک مؤقف

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان نے یمن کی حوثی تحریک (انصار اللہ) کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور دھمکیوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ تصور کیا جائے گا۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے سمندری مفادات، تجارتی راستوں اور قومی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستان کو اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے کمرشل بحری جہازوں کو دھمکیاں دی ہیں جبکہ بحیرہ احمر میں بعض تجارتی جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان تمام حملوں اور دھمکیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے کیونکہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی تجارتی نظام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے ایسے حملے کسی صورت قابل قبول نہیں۔

سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانا ناقابل قبول

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو نشانہ بنانا یا انہیں دھمکیاں دینا ناقابل قبول ہے۔ پاکستان کو اس صورتحال پر شدید تشویش ہے کیونکہ سعودی عرب پاکستان کا اہم دوست اور معاشی شراکت دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارتی جہازوں کے خلاف کارروائیاں عالمی تجارت اور خطے کے معاشی استحکام پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں، اس لیے بین الاقوامی قوانین کا احترام ضروری ہے۔

پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر حملہ قومی سلامتی کا معاملہ ہوگا

طاہر حسین اندرابی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر کسی پاکستانی پرچم بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا یا اس کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کی گئی تو اسے صرف ایک بحری واقعہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی سلامتی کے خلاف اقدام تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے سمندری مفادات اور بحری اثاثوں کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ملک کے خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ سمجھا جائے گا اور اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔

طاقت کے استعمال کا حق محفوظ

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر خودمختار ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اسی اصول کے تحت پاکستان بھی اپنے سمندری اثاثوں، بحری جہازوں اور تجارتی مفادات کے دفاع کے لیے ضرورت پڑنے پر طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بین الاقوامی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش

ترجمان نے کہا کہ بحیرہ احمر اور اردگرد کے علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائیں تاکہ عالمی بحری راستے محفوظ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور آزاد بحری تجارت کا حامی ہے اور تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیتا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشیدگی میں مزید اضافہ کریں یا عالمی تجارت کو متاثر کریں۔

پاکستان کا واضح پیغام

دفتر خارجہ نے اپنے بیان کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنے بحری مفادات، تجارتی راستوں اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا سمندری اثاثوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور بین الاقوامی قانون کے مطابق ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے گا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں