اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، حکومت نے مسلسل پانچویں روز بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 25 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئی قیمتوں کا تعین وفاقی حکومت اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے طے کردہ طریقہ کار کے مطابق کیا گیا ہے۔
پیٹرول کی قیمت کہاں پہنچی؟
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 66 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 335 روپے 18 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پہلے ہی شہری مہنگائی، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ڈیزل بھی مزید مہنگا
حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جس کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 383 روپے 46 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ براہ راست ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعتی شعبے کو متاثر کرتا ہے کیونکہ ٹرک، بسیں، زرعی مشینری اور دیگر بھاری گاڑیاں بڑی مقدار میں ڈیزل استعمال کرتی ہیں۔
مسلسل پانچواں اضافہ
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ مسلسل پانچویں روز کیا گیا ہے، جس کے باعث صارفین پر ایندھن کے اخراجات کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔اس سے قبل حکومت نے ایک روز پہلے بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا۔
گزشتہ اضافے میں پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی سیاسی کشیدگی، روپے کی قدر اور درآمدی اخراجات کو قرار دیا جاتا ہے۔
پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کی صورت میں اس کا اثر مقامی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر، پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز بھی قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
عوام پر اثرات
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف گاڑیوں کے ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات روزمرہ زندگی کے مختلف شعبوں تک پہنچتے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خورونوش، سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل مہنگی ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کے اخراجات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
کاروباری شعبہ بھی ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتا ہے کیونکہ پیداواری لاگت اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
آئندہ صورتحال
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا انحصار عالمی مارکیٹ، خام تیل کی قیمتوں اور ملکی معاشی صورتحال پر ہوگا۔
اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا درآمدی لاگت بڑھتی ہے تو مقامی سطح پر بھی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد اب عوام کی نظریں آئندہ جائزے پر ہیں کہ عالمی مارکیٹ اور دیگر عوامل کے باعث مستقبل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید تبدیلی آتی ہے یا نہیں۔