اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سعودی اتحادی افواج نے یمن کے الحدیدہ گورنریٹ میں فضائی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں میں حوثی گروپ سے منسلک فوجی تنصیبات اور اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔اتحادی افواج کے مطابق کارروائی کا مقصد بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنا تھا۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ الحدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور یمن کی تمام بندرگاہیں بحری آمد و رفت کے لیے معمول کے مطابق کھلی ہوئی ہیں۔
حوثیوں کو انتباہ
سعودی اتحادی افواج نے کہا کہ تباہ کیے گئے اہداف کا تعلق ان سرگرمیوں سے تھا جو بحیرہ احمر میں عالمی تجارت اور بحری سلامتی کے لیے خطرہ سمجھی جا رہی تھیں۔
اتحادی بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر حوثی گروپ کی جانب سے جارحانہ کارروائیاں جاری رہیں تو ان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
حوثیوں کا دعویٰ
اس سے قبل حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے الحدیدہ اور یمن کے جزیرہ کمران پر فضائی حملے کیے۔
یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بھی دعویٰ کیا کہ الحدیدہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی تنصیبات کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :کیا بحیرہ احمر ایک نئے بحری محاذ میں بدل رہا ہے؟ حوثیوں کے سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے دعوے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
تاہم سعودی اتحادی افواج کی جانب سے جاری بیان میں صرف حوثیوں سے منسلک فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی ہے۔
آئل ٹینکروں پر حملہ
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل حوثی گروپ انصاراللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سعودی عرب کے دو آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا ہے۔حوثیوں کے مطابق ان آئل ٹینکروں نے ان کی جانب سے عائد بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔اس واقعے کے بعد بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے تحفظ سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
بحری ناکہ بندی کا اعلان
حوثی گروپ انصاراللہ نے چند روز قبل سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا۔گروپ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام یمن پر عائد مبینہ محاصرے اور صنعاء ایئرپورٹ کی بندش کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔
یمن میں جاری تنازع کے باعث بحیرہ احمر کا خطہ پہلے ہی عالمی سطح پر اہم توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، کیونکہ یہ دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
عالمی تشویش
تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرہ احمر میں بڑھتی کشیدگی سے نہ صرف علاقائی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی برادری مسلسل زور دے رہی ہے کہ بحری راستوں کو محفوظ رکھا جائے تاکہ تجارتی جہاز بلا رکاوٹ آمد و رفت جاری رکھ سکیں۔