اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پیٹرول کی قیمت میں معمولی کمی جبکہ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 35 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 315 روپے 80 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق اہم ہدایت جاری کردی
دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 360 روپے 6 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
مٹی کا تیل بھی مہنگا کر دیا گیا
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 5 روپے 93 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 282 روپے 59 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 21 جولائی سے کر دیا گیا ہے۔
قیمتوں سے متعلق حکومت کی نئی گائیڈ لائنز
اوگرا کی جانب سے نئی قیمتوں کے اعلان سے قبل وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کی تھیں۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اوگرا اب روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرے گا اور اس مقصد کے لیے ہر مرتبہ حکومت سے پیشگی منظوری لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
اس نئی پالیسی کے تحت قیمتوں کا تعین خودکار نظام کے ذریعے کیا جائے گا تاکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا فوری اثر مقامی مارکیٹ میں بھی منتقل کیا جا سکے۔
درآمدی لاگت اور پریمیم کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین
گائیڈ لائنز کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا فیصلہ درآمدی لاگت اور پریمیم کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
اگر کسی روز متعلقہ پیٹرولیم مصنوعات درآمد نہ کی گئی ہوں تو قیمتوں کے تعین کے لیے سالانہ اوسط پریمیم کو بنیاد بنایا جائے گا، تاکہ قیمتوں کے تعین کا عمل مسلسل جاری رہ سکے۔اس طریقہ کار کا مقصد قیمتوں کے تعین کو زیادہ شفاف اور خودکار بنانا ہے۔
پیٹرولیم لیوی سے متعلق واضح ہدایات
دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے مقرر کردہ حد سے زیادہ پیٹرولیم لیوی وصول نہیں کی جا سکے گی۔
اس کے علاوہ پیٹرولیم لیوی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی صرف وزارتِ خزانہ کی باقاعدہ منظوری سے ہی ممکن ہوگی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس طریقہ کار سے قیمتوں کے تعین میں شفافیت برقرار رکھنے اور مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔
عالمی ریفرنس ریٹس روزانہ ویب سائٹ پر جاری ہوں گے
شفافیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے اوگرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ عالمی مارکیٹ کے ریفرنس ریٹس روزانہ اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے۔
اس اقدام کا مقصد صارفین، تیل کمپنیوں اور دیگر متعلقہ فریقین کو عالمی قیمتوں سے آگاہ رکھنا اور قیمتوں کے تعین کے عمل کو زیادہ واضح بنانا ہے۔
آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے نئی درآمدی پالیسی
حکومت کی نئی پالیسی کے مطابق آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ان کے مارکیٹ شیئر کے تناسب سے پیٹرول درآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
تاہم اگر کوئی کمپنی درآمد سے متعلق مقررہ شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی کرے گی تو اسے نو ماہ تک کے لیے نااہل قرار دیا جا سکے گا۔
اس اقدام کا مقصد درآمدی نظام کو منظم کرنا اور تمام کمپنیوں کے لیے یکساں قواعد نافذ کرنا ہے۔
پاکستان اسٹیٹ آئل سے متعلق نئی شرط
نئی پالیسی کے تحت پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) مالی سال 2027 سے صرف ہائی اسپیڈ ڈیزل درآمد کرنے کی اہل ہوگی۔
حکومت کی جانب سے جاری گائیڈ لائنز کے مطابق ان تمام اقدامات کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام کو زیادہ خودکار، شفاف اور مؤثر بنانا ہے تاکہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق مقامی قیمتوں کا بروقت تعین ممکن بنایا جا سکے۔