بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 10 دہشت گرد ہلاک، کیپٹن شہید

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سکیورٹی فورسز نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 10 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے ایک کیپٹن نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جان قربان کردی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو میں کارروائی کے دوران 7 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ بلوچستان میں بھی سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن کے دوران مزید 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

ہنگو میں کارروائی

آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ہنگو میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا، جس کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 7 دہشت گرد مارے گئے۔

سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے فائرنگ کے تبادلے کے بعد مسجد میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں نے مسجد کی حرمت کا خیال رکھنے کے بجائے اسے اپنی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کیا۔

کیپٹن حمزہ شہید

کارروائی کے دوران 27 سالہ کیپٹن حمزہ اکرم جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن حمزہ اکرم کا تعلق ضلع نارووال سے تھا۔ انہوں نے اپنے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی اور مادر وطن کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

سکیورٹی فورسز نے ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک کیے گئے دہشت گرد سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث تھے۔

کلیئرنس آپریشن جاری

آئی ایس پی آر کے مطابق ہنگو میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سکیورٹی فورسز علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے اور دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کا خاتمہ کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

بلوچستان میں کارروائی

دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن ردالفتنہ 3 کے دوران بلوچستان کے علاقوں کمبیلہ اور عاصم آباد میں بھی سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی۔

ذرائع کے مطابق فورسز نے دونوں علاقوں میں سرچ اینڈ سینیٹائزیشن آپریشن کرتے ہوئے 68 مربع کلومیٹر علاقے کو کلیئر کیا۔ کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان سے وابستہ 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 2 دہشت گردوں کی لاشیں بھی برآمد کی گئیں۔

دہشت گرد زخمی

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد زخمی بھی ہوئے، جن میں دہشت گرد گروہ کا سرغنہ شوکت ماما بھی شامل ہے۔

آپریشن کے دوران 12 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ممکنہ ٹھکانوں کی تلاشی کے ساتھ علاقے میں موجود مشتبہ سرگرمیوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی۔

ٹھکانے ختم

سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں کی متعدد پناہ گاہیں ختم کردی گئیں جبکہ دہشت گرد تنظیم کے جھنڈے بھی ہٹا دیے گئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن ردالفتنہ 3 دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گا اور دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔

وزیراعظم کا خراج عقیدت

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہنگو میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران شہید ہونے والے کیپٹن حمزہ اکرم کو خراج عقیدت پیش کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ کیپٹن حمزہ اکرم نے بہادری، جرات اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم اپنے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور ملک و قوم کے دفاع، امن اور سلامتی کے لیے مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

محسن نقوی کی تعزیت

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کیپٹن حمزہ اکرم کی شہادت پر خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں شہید ہونے والے افسر کی بہادری اور قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے جان قربان کرنے والے جوان پوری قوم کا فخر ہیں۔

ہمیں فالو کریں