اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور بحرین نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے معاہدے کو اہم اسٹریٹجک اقدام قرار دیتے ہوئے تینوں ممالک کی قیادت اور کوششوں کو سراہا ہے۔
او آئی سی کی حمایت
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے اپنے تہنیتی پیغام میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے اس اہم اسٹریٹجک پیش رفت کو سراہتے ہوئے معاہدے کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ معاہدہ خطے اور پوری مسلم دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
قیادت کو خراج تحسین
حسین ابراہیم طہٰ نے معاہدے کو عملی شکل دینے میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کی دانشمندی اور مسلسل کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک کی قیادت کی مشترکہ کاوشوں کے نتیجے میں ایک ایسا معاہدہ سامنے آیا ہے جو علاقائی سلامتی کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔
خطے میں استحکام
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ خطے اور اسلامی دنیا میں امن و استحکام کی حمایت کے لیے ایک بنیادی ستون کی حیثیت اختیار کرسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں خطے کو مختلف نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں اسلامی ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
مشترکہ عزم
حسین ابراہیم طہٰ نے کہا کہ یہ معاہدہ بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدے کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان یکجہتی اور تعمیری شراکت داری کو فروغ ملے گا۔
بحرین کا خیرمقدم
دوسری جانب بحرین کی وزارت خارجہ نے بھی پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
بحرینی وزارت خارجہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی دفاعی صلاحیتوں اور فوجی مہارت کو اجاگر کرتے ہوئے معاہدے کو وسیع تر علاقائی دفاعی نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا۔
علاقائی دفاع مضبوط
بحرین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ علاقائی سلامتی اور استحکام کے فروغ کے حوالے سے تینوں ممالک کے قائم شدہ ریکارڈ کی عکاسی کرتا ہے۔
بیان کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے بین الاقوامی وعدوں اور ذمہ داریوں کی پاسداری کے حوالے سے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے، جس کے باعث دفاعی تعاون کے اس معاہدے کو علاقائی سطح پر اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
خلیجی دفاعی نظام
بحرینی وزارت خارجہ کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ خلیج تعاون کونسل کے اجتماعی دفاعی نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ رکن ممالک کے درمیان یکجہتی اور اسٹریٹجک انضمام کے ذریعے اجتماعی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ویسٹ جیٹ فلائٹ اٹینڈنٹس کی ہڑتال ختم، ابتدائی معاہدہ طے، پروازوں کی بحالی کا آغاز
بحرین نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی اس کی اپنی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے اور وہ ایسے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے جو قومی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے کیے جائیں۔
سیاسی حل پر زور
بحرینی وزارت خارجہ نے کہا کہ بحرین علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانے اور خطے میں موجود تنازعات اور مسائل کے سیاسی حل کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
بحرین کے مطابق علاقائی سلامتی صرف دفاعی تعاون سے ہی نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات، سفارتی کوششوں اور باہمی تعاون کے ذریعے بھی مضبوط کی جاسکتی ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کے اس معاہدے کو او آئی سی اور بحرین کی جانب سے ملنے والی حمایت نے اس پیش رفت کی علاقائی اہمیت کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے ساتھ اسلامی دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ سکیورٹی اور اسٹریٹجک شراکت داری بڑھنے کے امکانات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔