اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے مشہور تفریحی پارک میرین لینڈ نے اپنی سفید وہیلوں کی منتقلی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے مزید سات سفید وہیلیں امریکا روانہ کر دی ہیں۔ یہ اقدام پارک میں موجود سمندری جانوروں کو محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کرنے کے منصوبے کا حصہ ہے۔پارک انتظامیہ کے مطابق پیر کے روز منتقل کی جانے والی ساتوں مادہ سفید وہیلوں کو امریکا کی ریاست ٹیکساس میں واقع ایک سمندری حیات کے مرکز بھیجا جا رہا ہے، جہاں ان کی نگہداشت اور علاج کا مناسب انتظام موجود ہے۔
سات سفید وہیلیں منتقل
منتقل کی جانے والی سفید وہیلوں کے نام زینا، جیمنی، اسکائیلا، میکا، ایو، نیوا اور کیلیپسو ہیں۔پارک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام وہیلوں کو خصوصی حفاظتی انتظامات اور ویٹرنری ماہرین کی نگرانی میں سفر کرایا جا رہا ہے تاکہ راستے میں ان کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔حکام کے مطابق جانوروں کی فلاح و بہبود اس پورے عمل میں پہلی ترجیح ہے۔
منتقلی کا دوسرا مرحلہ
یہ منتقلی پارک کے اس منصوبے کا دوسرا مرحلہ ہے۔اس سے قبل جولائی میں چھ سفید وہیلوں کو کامیابی کے ساتھ امریکا کے مختلف سمندری حیات کے مراکز منتقل کیا گیا تھا۔پارک انتظامیہ کے مطابق پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد اب باقی جانوروں کو بھی مرحلہ وار نئی رہائش گاہوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
غیر معمولی آپریشن
میرین لینڈ کے مشیروں کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں سفید وہیلوں کی منتقلی ایک انتہائی پیچیدہ اور غیر معمولی عمل ہے۔اس میں خصوصی جھولوں، درجنوں ماہرین، جانوروں کے ڈاکٹروں اور مختلف ممالک کے اداروں کے درمیان مسلسل تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں اس نوعیت کی منتقلی کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔
مالی بحران نے مجبور کیا
میرین لینڈ 2024 سے عوام کے لیے بند ہے۔پارک انتظامیہ پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے اور اب اس کے لیے تمام سفید وہیلوں کی مناسب دیکھ بھال جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔اسی وجہ سے پارک اور اس کی وسیع اراضی فروخت کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں :فورڈحکومت کی نیاگرا فالس میں نئے آبزرویشن وہیل کی تجویز، منصوبے پر بحث تیز
چین بھیجنے کا منصوبہ ناکام
اس سے پہلے پارک نے اپنی سفید وہیلوں اور ڈولفنوں کو چین منتقل کرنے کی کوشش کی تھی۔تاہم کینیڈا کی وفاقی حکومت نے اس منصوبے کی اجازت نہیں دی، جس کے بعد یہ منصوبہ منسوخ ہوگیا۔
بعد ازاں پارک نے خبردار کیا تھا کہ اگر فوری مالی مدد نہ ملی تو وہ اپنی تمام سفید وہیلوں کو ہلاک کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔اس بیان نے دنیا بھر میں شدید تشویش پیدا کر دی تھی۔
نئی امید
بعد میں امریکا اور اسپین کے سمندری حیات کے کئی مراکز نے مل کر ایک منصوبہ تیار کیا جس کے تحت میرین لینڈ کی سفید وہیلوں کو مرحلہ وار مختلف محفوظ مراکز میں منتقل کرنے پر اتفاق ہوا۔اسی منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں چھ اور اب دوسرے مرحلے میں سات سفید وہیلوں کی منتقلی کی جا رہی ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا مجموعہ
منتقلی سے پہلے میرین لینڈ میں 30 سفید وہیلیں اور چار ڈولفن موجود تھیں۔یہ دنیا میں قید حالت میں رکھی جانے والی سفید وہیلوں کا سب سے بڑا مجموعہ تھا جبکہ کینیڈا میں قید آخری وہیلیں اور ڈولفن بھی اسی پارک میں موجود تھیں۔
مزید منتقلی جاری رہے گی
پارک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ باقی جانوروں کی منتقلی بھی مرحلہ وار جاری رہے گی۔ان کا کہنا ہے کہ ہر مرحلے میں جانوروں کی صحت، حفاظت اور آرام کو اولین ترجیح دی جائے گی تاکہ انہیں نئی جگہ پر بہتر ماحول اور مناسب نگہداشت میسر آسکے۔