نیپال اور تبت میں خوفناک سیلاب، 160 سے زائد افراد ہلاک، 24 کینیڈین سیاح لاپتا

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)نیپال اور تبت کی سرحدی حدود میں بدھ کے روز آنے والے شدید سیلاب اور مٹی کے تودوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ قدرتی آفت کے نتیجے میں 160 سے زائد افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں افراد لاپتا ہوگئے ہیں۔ لاپتا افراد میں 24 کینیڈین شہری بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں تاحال کوئی حتمی اطلاع سامنے نہیں آسکی۔

نیپالی پولیس کے مطابق ملک میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 162 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب چین کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق تبت کے گیریونگ کاؤنٹی میں کم از کم 3 افراد ہلاک جبکہ 558 سے زائد افراد لاپتا ہیں۔

سینکڑوں افراد تاحال لاپتا

نیپال ٹورازم بورڈ کے حکام کے مطابق مجموعی طور پر 403 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں 341 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ ان لاپتا افراد میں 24 کینیڈین شہری بھی شامل ہیں۔ کینیڈا کے سفیر برائے نیپال نے بھی کینیڈین شہریوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات کی تصدیق کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام اور بجلی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث امدادی ٹیموں کو لاپتا افراد تک پہنچنے اور ان سے رابطہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

بھوٹے کوشی دریا میں اچانک طغیانی

سیلاب کا آغاز مقامی وقت کے مطابق بدھ کی صبح تقریباً 9 بجے بھوٹے کوشی دریا میں اچانک طغیانی آنے سے ہوا۔ پانی کے انتہائی تیز بہاؤ نے دریا کے اطراف موجود کئی آبادیوں، سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

سیلابی پانی اور ملبے نے کئی مقامات پر راستے بند کردیے، جبکہ متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ پن بجلی کے منصوبے بھی متاثر ہوئے اور لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

کینیڈین شہریوں کی تلاش جاری

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی تباہ کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے خطے میں موجود کینیڈین شہریوں پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد ’’رجسٹریشن آف کینیڈینز ابروڈ‘‘ نظام میں اپنا اندراج کریں تاکہ ہنگامی صورت حال میں ان سے رابطہ کیا جاسکے۔

کینیڈین حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کے باعث لاپتا شہریوں سے فوری رابطہ قائم کرنا مشکل ہے۔ حکام صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور مقامی اداروں کے ساتھ مل کر معلومات جمع کررہے ہیں۔

بھارتی زائرین بھی لاپتا

قدرتی آفت سے متاثر ہونے والے افراد میں مختلف ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔ نیپالی حکام کے مطابق لاپتا افراد میں بھارت سے تعلق رکھنے والے 133 زائرین بھی شامل ہیں، جو تبت میں واقع مقدس مقام ماؤنٹ کیلاش کی زیارت کے لیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ امریکا، آسٹریلیا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے بھی لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد کے باعث مختلف ممالک کے سفارتی حکام مقامی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں۔

نواکوٹ میں تباہی کے مناظر

شدید سیلاب اور مٹی کے تودوں نے نیپال کے متعدد علاقوں میں معمولات زندگی مفلوج کردیے۔ نواکوٹ سمیت کئی مقامات پر عمارتیں کیچڑ اور ملبے میں دب گئیں، گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں جبکہ درخت اور بجلی کی تاریں بھی ملبے تلے آ گئیں۔

عینی شاہدین کے مطابق کئی علاقوں میں لوگوں نے پانی اور مٹی کے تودوں کو تیزی سے آبادیوں کی جانب بڑھتے دیکھا اور اپنی جان بچانے کے لیے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات کی طرف دوڑ لگائی۔

گلیشیئرز سے خطرے کا خدشہ

ماہرین کے مطابق تباہی کی ایک ممکنہ وجہ گلیشیئر سے برف اور چٹانوں کے تودے گرنے کے نتیجے میں دریائی راستے کا عارضی طور پر بند ہونا اور اس کے بعد اچانک پانی کا بڑا ریلا آنے کا واقعہ ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ڈبلن،ملزمان کے حملے میں زخمی ہونیوالا کینیڈین سیاح ہسپتال میں دم توڑ گیا

ہمالیائی خطے میں گلیشیئرز کے پگھلنے، شدید بارشوں اور درجہ حرارت میں اضافے کے باعث سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات پہلے ہی بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں اس نوعیت کے اچانک آنے والے سیلاب کے اثرات انتہائی تباہ کن ہوسکتے ہیں۔

چین اور بھارت سے امداد کی پیشکش

نیپال نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیوں کے لیے چین اور بھارت سے تعاون طلب کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے نیپال کو ہر ممکن انسانی امداد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

دوسری جانب چین نے تبت کے متاثرہ سرحدی علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاش اور امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ امدادی ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش، زخمیوں کو طبی امداد اور متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔

امدادی کارروائیوں میں مشکلات

شدید سیلاب کے باعث کئی سڑکیں تباہ اور مواصلاتی راستے متاثر ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ بعض مقامات پر ملبے اور کیچڑ نے راستے مکمل طور پر بند کردیے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ لاپتا افراد کی تعداد میں کمی یا اضافے کے بارے میں حتمی اعداد و شمار امدادی کارروائیاں آگے بڑھنے کے بعد ہی واضح ہوسکیں گے۔ فی الحال مقامی اور بین الاقوامی ادارے متاثرہ علاقوں میں تلاش اور ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

قدرتی آفت نے خطے کو ہلا کر رکھ دیا

نیپال اور تبت میں آنے والے اس تباہ کن سیلاب نے نہ صرف مقامی آبادی بلکہ بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاحوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ 160 سے زائد ہلاکتوں اور سینکڑوں افراد کے لاپتا ہونے کے بعد متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

حکام کی توجہ اس وقت لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرین کو فوری امداد فراہم کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ مختلف ممالک اپنے شہریوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے نیپالی اور چینی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

ہمیں فالو کریں