اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)مون سون بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلابی ریلوں نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
دونوں صوبوں کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری تازہ رپورٹ کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 43 افراد جاں بحق جبکہ 177 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ بارشوں کے باعث متعدد مکانات کو نقصان پہنچا، کئی گھر منہدم ہو گئے اور مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ اور فلیش فلڈنگ کے خطرات بدستور برقرار ہیں۔
پنجاب میں 21 افراد جاں بحق، 154 زخمی
پی ڈی ایم اے پنجاب کے ترجمان کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 154 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ مختلف علاقوں میں سیلابی ریلے آئے اور متعدد افراد کے بہہ جانے یا پھنسنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم ایسے واقعات میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اموات کی وجوہات بھی سامنے آگئیں
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 افراد جاں بحق ہوئے۔عمارتیں یا چھتیں گرنے سے 15 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
ؐیہ بھی پڑھیں :کل سے پنجاب میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی، کئی شہروں میں موسلادھار بارش ،اربن فلڈنگ کا خدشہ
کرنٹ لگنے کے واقعات میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص کی موت واقع ہوئی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ شدید بارشوں کے باعث 38 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ ایک مویشی بھی ہلاک ہوا۔
اربن اور فلیش فلڈنگ کا خدشہ برقرار
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی و نشیبی علاقوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔
انہوں نے متعلقہ ضلعی انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
خیبرپختونخوا میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں مسلسل بارشوں کے باعث مکانات کی چھتیں اور دیواریں گرنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں کے باعث 22 افراد جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوئے ہیں۔
پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں 9 مرد، 10 بچے اور 3 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 11 مرد، 5 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔
37 مکانات متاثر، 8 مکمل طور پر منہدم
پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں سے مجموعی طور پر 37 مکانات متاثر ہوئے، جن میں سے 8 مکمل طور پر منہدم جبکہ 29 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا۔حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری امداد کی فراہمی اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
متعدد اضلاع بارشوں سے متاثر
پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلابی صورتحال سے پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، لوئر چترال، لوئر دیر، اپر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، ٹانک، تورغر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت متعدد اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔
ان علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جبکہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا عمل بھی جاری ہے۔
پی ڈی ایم اے کی احتیاطی اپیل
پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں، نشیبی علاقوں، برساتی نالوں اور سیلابی ریلوں کے قریب جانے سے احتراز کریں، جبکہ خراب یا خستہ حال عمارتوں میں رہائش اختیار نہ کریں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔