اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) وزن کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کے حوالے سے ایک نئی تحقیق میں ذہنی صحت سے متعلق اہم خدشات سامنے آئے ہیں۔ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد میں ڈپریشن اور خودکشی کے خیالات رپورٹ ہونے کا امکان ان افراد کے مقابلے میں زیادہ پایا گیا جنہوں نے ایسی ادویات استعمال نہیں کی تھیں۔
جنوبی کوریا میں کی جانے والی اس تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے 27 ہزار بالغ افراد کے ذہنی صحت سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا۔ تحقیق میں شامل افراد میں سے 846 افراد ایسے تھے جنہوں نے ڈاکٹر کے نسخے پر وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے کی اطلاع دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں :
وزن بڑھنے پر کئی فلمی کرداروں سے ہاتھ دھونا پڑے، بھارتی اداکارہ رت بھری چکرورتی کا انکشاف
تحقیق کے نتائج میں وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد اور ذہنی صحت سے متعلق بعض مسائل کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تاہم ان نتائج کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ایسے شخص میں دوا کے استعمال کے نتیجے میں ڈپریشن یا خودکشی کے خیالات پیدا ہوں گے۔ تحقیق میں سامنے آنے والے تعلق کو مزید جانچنے کے لیے طبی اور سائنسی تحقیق کی ضرورت رہتی ہے۔
ڈپریشن کا امکان 93 فیصد زیادہ رپورٹ ہوا
تحقیق کے مطابق وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد میں ڈپریشن کا امکان ان افراد کے مقابلے میں 93 فیصد زیادہ پایا گیا جنہوں نے ایسی ادویات استعمال نہیں کی تھیں۔
یہ نتیجہ وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال کے ساتھ ذہنی صحت کی نگرانی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ محققین نے ایسے افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لے کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ ادویات کے استعمال اور ذہنی صحت سے متعلق مسائل کے درمیان کیا تعلق موجود ہوسکتا ہے۔
وزن کم کرنے والی ادویات بالخصوص جی ایل پی-1 سے متعلق ادویات کے استعمال میں گزشتہ عرصے کے دوران اضافہ ہوا ہے۔ ان ادویات کے استعمال سے متعلق تحقیق میں جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی صحت کے پہلو پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
خودکشی کے خیالات کی رپورٹنگ میں بھی نمایاں فرق
تحقیق میں ایک اور اہم نتیجہ خودکشی کے خیالات سے متعلق سامنے آیا۔ اعداد و شمار کے مطابق وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد میں خودکشی کے خیالات رپورٹ کرنے کا امکان ادویات استعمال نہ کرنے والوں کے مقابلے میں 168 فیصد زیادہ تھا۔
یہ نتیجہ محققین کے لیے خصوصی توجہ کا باعث بنا کیونکہ خودکشی کے خیالات ذہنی صحت سے متعلق ایک سنگین علامت سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے خیالات کی صورت میں فوری طور پر طبی یا ذہنی صحت کے ماہر سے رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔
محققین نے اس حوالے سے ادویات استعمال کرنے والے افراد کی ذہنی کیفیت پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ کسی بھی تشویش ناک علامت کو بروقت شناخت کیا جاسکے۔
جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والوں کا جائزہ
سائنس دانوں نے تقریباً ایک دہائی تک جی ایل پی-1 ادویات استعمال کرنے والے افراد سے متعلق ڈیٹا کا بھی جائزہ لیا۔ اس دوران ایک اور اہم پہلو سامنے آیا جو وزن میں دوبارہ اضافے سے متعلق تھا۔
تحقیق کے مطابق اگر کسی فرد کا وزن دوا تجویز کیے جانے کے بعد دوبارہ بڑھ گیا تو اس کے ساتھ ذہنی صحت کے مسائل کا خطرہ بھی مزید بڑھا ہوا پایا گیا۔
محققین نے اس مشاہدے کو بھی اپنی تحقیق کا اہم حصہ قرار دیا ہے۔ تاہم وزن میں دوبارہ اضافے اور ذہنی صحت کے مسائل کے درمیان تعلق کی مکمل نوعیت کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
محققین نے کیا نتیجہ اخذ کیا
ڈاکٹر ینگ سون اور ان کے ساتھی محققین نے تحقیق میں لکھا کہ وزن کم کرنے والی ادویات کا استعمال ڈپریشن اور خودکشی کے رجحانات کے بڑھتے ہوئے خطرے سے منسلک ہے۔
محققین کے مطابق ان افراد میں خطرہ مزید بڑھا ہوا دیکھا گیا جن کا وزن ادویات تجویز کیے جانے کے بعد دوبارہ بڑھ گیا۔
یہ بھی پڑھیں :
صحت بخش غذائیں بعض افراد کے لیے مسئلہ بن سکتی ہیں، تحقیق میں اہم انکشاف
یہ نتائج اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وزن کم کرنے کے علاج کے دوران صرف جسمانی وزن میں کمی یا اضافے کو ہی نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ مریض کی ذہنی کیفیت پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔
ایف ڈی اے کو بھی رپورٹس موصول ہوئیں
وزن کم کرنے والی ادویات کے حوالے سے خودکشی کے خطرے کا معاملہ اس وقت بھی توجہ کا مرکز بنا تھا جب امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن یعنی ایف ڈی اے کو ایسے مریضوں کی جانب سے سینکڑوں رپورٹس موصول ہوئیں جنہوں نے ادویات استعمال کرنے کے دوران خودکشی کے خیالات یا شدید مایوسی محسوس ہونے کی اطلاع دی تھی۔
کچھ مریضوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ انہیں پہلے ذہنی صحت سے متعلق کسی مسئلے کی تاریخ نہیں تھی لیکن دوا استعمال کرنے کے بعد انہیں ایسے خیالات یا کیفیات کا سامنا کرنا پڑا۔
ان رپورٹس نے وزن کم کرنے والی ادویات کے ممکنہ ذہنی اثرات کے حوالے سے مزید سوالات کو جنم دیا اور اس موضوع پر تحقیق کی اہمیت میں اضافہ ہوا۔
تحقیق کے نتائج کا مطلب کیا ہے
نئی تحقیق کے نتائج وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال اور ذہنی صحت سے متعلق بعض مسائل کے درمیان تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم صرف اس تعلق کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ ادویات ہی ڈپریشن یا خودکشی کے خیالات کی براہ راست وجہ ہیں۔
کسی فرد کی ذہنی صحت پر متعدد عوامل اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے ایسے نتائج کی تشریح کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے۔ وزن کم کرنے والی ادویات استعمال کرنے والے افراد کو اپنی صحت میں کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کرنی چاہیے۔
اگر کسی شخص کو دوا استعمال کرنے کے دوران شدید مایوسی یا خودکشی کے خیالات محسوس ہوں تو اسے اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ فوری طور پر طبی یا ہنگامی مدد حاصل کرنی چاہیے۔
نئی تحقیق نے بہرحال وزن کم کرنے والی ادویات کے استعمال کے دوران ذہنی صحت کی نگرانی کی اہمیت کو نمایاں کردیا ہے۔ محققین کے مطابق خصوصاً ان افراد پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جن کا وزن علاج کے بعد دوبارہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ تحقیق میں ایسے افراد میں ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا خطرہ زیادہ دیکھا گیا۔
