اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اور ایران کے درمیان دسویں مشترکہ تجارتی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں شروع ہوگیا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور کاروباری نمائندے شریک ہوئے۔
مشترکہ تجارتی اجلاس
دسویں پاک ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایرانی وزیر صنعت، کان و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک نے کی۔
ایرانی وفد کے ساتھ ایران چیمبر آف کامرس کا 16 رکنی کاروباری وفد بھی پاکستان پہنچا ہے، جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے تاجر اور صنعتکار شامل ہیں۔
تجارت بڑھانے پر بات چیت
اجلاس میں پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کے فروغ، سرمایہ کاری، کسٹمز نظام، بینکاری تعاون اور سرحدی تجارتی روابط کو بہتر بنانے کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔دونوں ممالک کے حکام نے پاک ایران آزاد تجارتی معاہدے پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور اسے جلد حتمی شکل دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
معاشی شراکت داری کا عزم
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تاریخی برادرانہ تعلقات کو مضبوط معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی امکانات بہت زیادہ ہیں اور حکومتیں کاروباری طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کر کے تجارت کو نئی سطح تک لے جا سکتی ہیں۔
سرحدی تجارت میں بہتری
جام کمال خان نے کہا کہ سرحدی لاجسٹکس، کسٹمز معاملات اور سامان کی نقل و حرکت میں موجود رکاوٹوں کا خاتمہ ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام اور جدید الیکٹرانک نظام کے ذریعے تجارت میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
یہ بڑھیں :امریکا پر کینیڈا کے جوابی ٹیرف کا اثر؟ اونٹاریو کے نمائندے کا بڑا دعویٰ، تجارتی مذاکرات میں پیش رفت کی امید
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کا نجی شعبہ تجارت بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاہم حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک محفوظ، آسان اور قابل اعتماد کاروباری ماحول فراہم کریں۔
آزاد تجارتی معاہدہ جلد مکمل کرنے پر زور
وفاقی وزیر تجارت نے پاک ایران آزاد تجارتی معاہدے کو جلد مکمل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے معاشی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ دسویں مشترکہ تجارتی کمیٹی کا اجلاس اقتصادی تعاون کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ایران نے پاکستان کو اہم شراکت دار قرار دے دیا
ایرانی وزیر صنعت، کان و تجارت ڈاکٹر محمد اتابک نے پاکستان کو ایران کا طویل المدتی اور اہم تجارتی شراکت دار قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔
بندرگاہوں اور توانائی تعاون پر گفتگو
ایرانی وزیر نے کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے ذریعے علاقائی تجارت اور لاجسٹک تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان توانائی کے شعبے، خصوصاً بجلی کی تجارت اور علاقائی رابطوں میں تعاون دونوں ممالک کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
کاروباری روابط میں توسیع
اجلاس کے دوران نجی شعبے کے درمیان روابط بڑھانے اور کاروباری تعاون کو فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔حکام نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ اقدامات کے ذریعے پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوگا اور دونوں ممالک اقتصادی ترقی کے نئے مواقع حاصل کر سکیں گے۔