سعودی کابینہ کا اہم اجلاس، حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت، دفاع کا حق استعمال کرنے کا اعلان

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سعودی عرب میں حوثی ملیشیا کی جانب سے شہریوں اور شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد سعودی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں مملکت کی سلامتی، خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق واضح مؤقف اختیار کیا گیا۔

سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت جدہ میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں حوثی ملیشیا کے سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں شہری اہداف کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ کابینہ نے واضح کیا کہ سعودی عرب اپنی سرزمین، شہریوں، رہائشیوں اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق رکھتا ہے۔

شہری اہداف پر حملے

سعودی کابینہ نے حوثی ملیشیا کی جانب سے شہریوں اور شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے کو سنگین کارروائی قرار دیا۔ حالیہ حملوں میں سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا، جن میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران شامل ہیں۔

سعودی حکام کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوئے جبکہ بعض رہائشی عمارتوں، گاڑیوں اور دیگر شہری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ سعودی حکام نے زخمی ہونے والے افراد کو طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر اقدامات کی ہدایت بھی کی۔

دفاع کا قانونی حق

کابینہ اجلاس میں سعودی عرب کے دفاع کے حق پر بھی زور دیا گیا۔ سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ مملکت کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی سلامتی اور خود مختاری کے دفاع کا جائز حق حاصل ہے۔

سعودی کابینہ نے واضح کیا کہ ریاست کی سلامتی، اس کی سرحدی و علاقائی سالمیت، شہریوں اور رہائشیوں کا تحفظ اور قومی اثاثوں کی حفاظت ایسے اصول ہیں جن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں

سعودی کابینہ کے اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ سعودی عرب اپنی سرزمین اور قومی وسائل کو کسی بھی ایسے حملے سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا جو مملکت کی سلامتی یا خود مختاری کو متاثر کرے۔

سعودی مؤقف کے مطابق شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے نہ صرف انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ اس سے خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

حوثی حملوں کے باعث سعودی عرب اور یمن کے درمیان سرحدی علاقوں میں کشیدگی ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں جنوبی سعودی عرب کے مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ میزائل و ڈرون حملے، خطے میں کشیدگی بڑھ گئی

12 ستمبر کو جازان کے علاقے میں ایک حوثی حملے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک مسجد، متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ سعودی سول ڈیفنس نے شہری اشیا کو نشانہ بنانے کو بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔

شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح

سعودی کابینہ نے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کو ریاست کی بنیادی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے ساتھ حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مملکت کی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت یا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

بین الاقوامی قانون کی پاسداری

سعودی عرب نے اپنے دفاع کے حق کو بین الاقوامی قانون سے جوڑتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مملکت اپنی خود مختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ کے لیے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ضروری اقدامات کر سکتی ہے۔

یہ مؤقف سعودی عرب پہلے بھی حوثی حملوں کے حوالے سے اختیار کر چکا ہے۔ اگست میں ریاض نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے حوثی حملوں کی مذمت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنی سرزمین، شہریوں اور تنصیبات کے دفاع کے حق کا اعادہ کیا تھا۔

علاقائی امن کی کوششیں

کابینہ اجلاس میں خطے اور عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ سعودی حکومت نے ایک جانب اپنی سلامتی اور خود مختاری کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا ہے جبکہ دوسری جانب خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔

سعودی مؤقف کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے کشیدگی کم کرنا اور ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی ضروری ہے جن سے شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو خطرات لاحق ہوں۔

واضح پیغام

سعودی کابینہ کے تازہ اجلاس سے یہ واضح پیغام سامنے آیا ہے کہ ریاض حوثی حملوں کو اپنی قومی سلامتی، خود مختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔ سعودی حکومت نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ مملکت کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے دفاع اور اپنے شہریوں، سرزمین اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق حاصل ہے۔

ہمیں فالو کریں